منگلورو13/مارچ (ایس او نیوز) شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران ہوئے تشدد اور پولیس فائرنگ کی جو تحقیقات میجسٹریٹ کے ذریعے ہورہی ہے، اس میں اپنے بیانات درج کروانے کے لئے پولیس افسران اور دیگر افراد حاضر ہوئے۔واضح رہے کہ پولیس کے لاٹھی چارج اور فائرنگ میں دو افراد کی موت واقع ہونے کے علاوہ درجنوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔
ریاستی حکومت کے ذریعے جو میجسٹریل انکوائری ہورہی ہے اس کی قیادت اڈپی ضلع کے ڈپٹی کمشنر جی جگدیشا کو سونپی گئی ہے۔ جمعرات کے دن تحقیقاتی میجسٹریٹ کے سامنے منگلورو کے سٹی پولیس کمشنر ڈاکٹر پی ایس ہرشا حاضر ہوئے اور 38تحریری بیانات جمع کروائے۔جگدیشا نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ”جملہ 49پولیس افسران نے بیانات درج کروائے جن میں پولیس کمشنر، تین ہوم گارڈس اور دیگر پولیس عملہ شامل ہے۔جبکہ 2عام افراد نے بھی ثبوت جمع کروائے، جنہیں اس ثبوت کی سی ڈی ایک خاص فارمیٹ میں 19مارچ کواگلی سماعت کے وقت جمع کروانے کی ہدایت دی گئی ہے۔فہرست کے مطابق 176 پولیس والوں کو اپنے بیانات درج کروانا تھا۔ ابھی ان میں سے 57پولیس والوں کی طرف سے بیانات درج کروانا باقی ہے۔“ انہوں نے مزید بتایا کہ جنوبی کنڑا کے”ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، پوسٹ مارٹم کرنے والے اورزخموں کے سرٹفکیٹ جاری کرنے والے ڈاکٹروں،بندوق کی گولیوں سے متعلق (بیالسٹک) رپورٹ دینے والے ماہرین کو بھی طلب کرکے ان کے بیانات درج کیے جائیں گے جنہوں نے پوسٹ مارٹم کیا تھا۔پولیس اور عوام کی طرف سے جن لوگوں نے بھی بیانات درج کروائے ہیں ان سے جرح (کراس ایکزامنیشن) کرنے کی اجازت دی جائے گی۔تاحال عوام او رپولیس کی جانب سے جملہ 320لوگوں نے بیانات اور ثبوت داخل کیے ہیں۔“
دوسری طرف سٹی پولیس کمشنر ہرشانے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ”میں نے تحقیقاتی میجسٹریٹ کے سامنے تفصیلی بیان درج کروایا ہے۔ تقریباً 21صفحا ت پر مبنی تحریری بیان کے علاوہ اس بیان کو تقویت دینے لائق 936دستاویزات جمع کروائے ہیں۔اور دوسرے ثبوت بھی پیش کیے گئے ہیں۔“
اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ اے سی پی(نارتھ)اور نوڈل آفیسر بیلی اَپا کے یو نے ہسٹوپیتھالوجی اور موت کی اصل وجہ ثابت کرنے والی لیباریٹری جانچ کی رپورٹ پیش کرنے کے لئے مزید وقت طلب کیا ہے۔جبکہ ڈی سی پی (لاء اینڈ آرڈر) ارونانگشو گری بھی مزید رپورٹس داخل کرنے کے لئے اضافی مہلت طلب کی ہے۔
حالانکہ سرکاری حکم نامے کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ 23مارچ کوسونپی جانی چاہیے، لیکن سمجھا جاتا ہے کہ تحقیقات کی موجود ہ رفتار کو دیکھتے ہوئے اڈپی ڈی سی جگدیشا کی طرف سے حکومت کو رپورٹ دینے کے لئے مزید مہلت طلب کی جائے گی۔